ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس — 10 اکتوبر 2025: خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور چیلنجز کی تفصیل

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس — 10 اکتوبر 2025: خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور چیلنجز کی تفصیل

خلاصہ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 2024 کے دوران 14,535 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) ہوئے اور 779 دہشت گرد مارے گئے، جب کہ 2025 میں 15 ستمبر تک 10,115 آپریشنز میں 917 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ دو برسوں میں افغان نژاد دہشت گردوں کی کارروائیوں اور سرحدی دراندازی پر بھی اعدادوشمار پیش کیے گئے۔ ترجمان نے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد، جوڈیشل نظام کی مضبوطی اور ٹیرر–کرائم نیکسس کے خاتمے پر زور دیا۔

تاریخ/مقام: 10 اکتوبر 2025، پشاور
ذریعہ/انتساب: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس
نوٹ: یہ متن سماعتی/نوٹی بنیاد پر درستگی کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے؛ سرکاری اعدادوشمار وہی ہیں جو ترجمان نے فراہم کیے۔


خبر کی تفصیل

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان کی آمد کا مقصد خیبرپختونخوا کے غیور عوام کے درمیان بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا جائزہ لینا اور عوام، پولیس، ایف سی اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ اُن کے مطابق ریاست، افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی مدد سے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔

2024 کی کارروائیاں (خیبرپختونخوا)

  • مجموعی IBOs: 14,535 (اوسطاً تقریباً 40 روزانہ)
  • ہلاک دہشت گرد: 779 (تقریباً 2.1 یومیہ)
  • شہادتیں: 570
    • پاک فوج: 272
    • پولیس: 140
    • عام شہری: 165

2025 (یکم جنوری تا 15 ستمبر)

  • مجموعی IBOs: 10,115 (اوسطاً تقریباً 40 روزانہ)
  • ہلاک دہشت گرد: 917 (اوسطاً 3.5 روزانہ)
  • شہادتیں: 516
    • پاک فوج: 311
    • پولیس: 73
    • عام شہری: 132

گزشتہ دس برس کا تناظر

ترجمان کے مطابق رواں برس ہلاک ہونے والے خارجی (نان-لوکل) دہشت گردوں کی تعداد گزشتہ 10 برس کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے؛ 2024 میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا۔

سرحدی و علاقائی تناظر

  • 2024–2025 میں پاکستان کے اندر کارروائیوں میں ہلاک افغان نژاد دہشت گرد: 161
  • سرحد پر دراندازی کے دوران مارے گئے خارجی عناصر: 135
  • خودکش حملہ آوروں میں افغان شہریت رکھنے والوں کی تعداد: تقریباً 30

ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے بیس آف آپریشنز کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جب کہ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں اور جدید ہتھیار دستیاب ہونے سے صورتحال پیچیدہ ہوئی ہے۔

دہشت گردی کی پانچ بنیادی وجوہ (ترجمان کے مطابق)

  1. نیشنل ایکشن پلان (خصوصاً ’ریوائزڈ‘ 14 نکات) پر مکمل/موثر عمل درآمد نہ ہونا۔
  2. دہشت گردی کے معاملے پر سیاسی قطبیت/سیاست زدگی۔
  3. بھارت کی مبینہ سرپرستی اور افغانستان کو بیـس آف آپریشنز کے طور پر استعمال کرنا۔
  4. افغان پناہ گاہیں اور جدید اسلحے کی دستیابی۔
  5. ٹیرر–کرائم نیکسس (منشیات، بھتہ، اغوا برائے تاوان، نان-کسٹم پیڈ گاڑیاں وغیرہ) جسے بعض مقامی/سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔

عدالتی اور نفاذی پہلو

  • اگست 2025 تک خیبرپختونخوا کی انسدادِ دہشت گردی عدالتوں (ATCs) میں:
    • Convictions: اندازاً 34
    • زیرِ التوا کیسز (کم از کم 3 سال سے کم مدت والے): 2,873
    • زیرِ التوا کیسز (3 سال سے زائد): 1,706
  • نارکوٹکس کیسز: 10,087Convictions: 679
  • غیر قانونی اسلحہ کیسز: 33,389Convictions: 6,945

ترجمان کے مطابق CTD کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے؛ موجودہ آپریشنل اسٹرینتھ تقریباً 3,200 اہلکار بتائی گئی۔

بیانیہ اور مفاہمت پر مؤقف

ترجمان نے کہا کہ قومی سطح پر متحدہ انسدادِ دہشت گردی بیانیہ ناگزیر ہے۔ اُن کے مطابق ہر مسئلے کا حل صرف بات چیت نہیں؛ ریاست آئین و قانون کے مطابق دہشت گردی کا قوت اور قانون کے امتزاج سے مقابلہ کرے گی۔

عزمِ نو

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعادہ کیا کہ ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور عوام مل کر دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔