خیبر پختونخوا آپریشنز: 31 دہشت گرد ہلاک، امن قائم رکھنے کا عزم

خیبر پختونخوا میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 31 دہشت گرد ہلاک – دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت

خیبر پختونخوا آپریشنز: 31 دہشت گرد ہلاک، امن قائم رکھنے کا عزم

ان پاکستان ویب ڈیسک – خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں دو بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کیں جن میں مجموعی طور پر 31 دہشت گرد مارے گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ آپریشنز نہ صرف دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کے لیے بڑا دھچکا ہیں بلکہ خطے میں امن کے قیام کی جدوجہد میں بھی ایک سنگ میل ہیں۔

لکی مروت: بھارتی سرپرستی یافتہ گروہ کا خاتمہ

13 ستمبر کو ضلع لکی مروت میں کی جانے والی کارروائی کے دوران 14 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ سب ’’فتنہ خوارج‘‘ نامی گروہ سے وابستہ تھے جو بھارت کی سرپرستی میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد علاقے میں بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، تاہم بروقت کارروائی کے نتیجے میں ایک بڑے سانحے سے بچا لیا گیا۔

بنوں آپریشن: 17 دہشت گرد ہلاک

14 ستمبر کو ضلع بنوں میں ایک اور بڑی کارروائی کی گئی۔ اس آپریشن میں 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جو مبینہ طور پر علاقے میں شہریوں اور فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے جمع تھے۔ آپریشن کے دوران ان کے محفوظ ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

کلیئرنس آپریشن اور سکیورٹی پلان

فورسز کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ باقی بچے عناصر کو بھی ختم کیا جا سکے۔ سکیورٹی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ علاقے کے لوگوں کو مزید محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے طویل المدتی پلان بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔

دہشت گردی کے پس منظر میں بھارت کا کردار

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی سرگرمیوں کے پیچھے بھارت کا بڑھتا ہوا کردار تشویش ناک ہے۔ ’’فتنہ خوارج‘‘ جیسے گروہ بھارت کی مالی اور عسکری سرپرستی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پاکستان کے امن کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز ایسے کسی بھی نیٹ ورک کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔

عوامی ردعمل اور تعاون

مقامی آبادی نے ان کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ لکی مروت اور بنوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے طویل عرصے سے دہشت گردی کی لپیٹ میں تھے اور حالیہ کارروائیوں نے انہیں ایک نیا حوصلہ دیا ہے۔ شہریوں نے فورسز کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور خفیہ معلومات فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ماہرین کی رائے

سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی ادارے دہشت گردوں کو صرف وقتی طور پر نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے نیٹ ورکس دوبارہ پنپ نہ سکیں۔

نتیجہ

خیبر پختونخوا میں ہونے والے یہ آپریشنز اس بات کا پیغام ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کسی بھی دباؤ یا بیرونی سازش کے باوجود جاری رکھے گا۔ 31 دہشت گردوں کی ہلاکت دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے نہ صرف نقصان دہ ہے بلکہ یہ عوام کو یہ یقین بھی دلاتی ہے کہ امن و استحکام کے قیام کے لیے فورسز مسلسل متحرک ہیں۔