سندھ میں سیلاب: M5 موٹر وے اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان

M5 موٹر وے اور زرعی شعبہ شدید متاثر، سندھ میں سیلابی صورتحال
نمائندہ انسائیڈ پاکستان کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع خصوصاً کشمور اور شکارپور میں حالیہ مون سون کی بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، M5 موٹر وے کے پانچ مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ اطراف کے دیہات میں بھی پانی داخل ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں زرعی زمینیں اور فصلیں بھی بڑے پیمانے پر نقصان کا شکار ہو گئی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے مئی کے مہینے میں ہی خبردار کیا تھا کہ اس سال مون سون کی بارشیں معمول سے کہیں زیادہ ہوں گی، تاہم حالیہ سیلاب نے مقامی انتظامیہ اور کسانوں کی تیاریوں کو چیلنج کر دیا ہے۔ کشمور اور شکارپور کے کنارے دریاؤں میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے کم زمین والے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ M5 موٹر وے کے متاثرہ حصے میں کئی پلوں اور سڑکوں کے کنارے پانی جمع ہو گیا جس سے گاڑیوں کی آمد و رفت رک گئی اور کئی لوگ عارضی طور پر موٹر وے سے بلاک ہو گئے۔
نمائندہ انسائیڈ پاکستان سے بات کرتے ہوئے مقامی کسانوں اور متاثرہ رہائشیوں نے بتایا کہ ان کی فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں اور وہ شدید مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک کسان نے کہا:
"ہمارا گنا، کپاس اور چاول کے کھیت مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں، آنے والے دنوں میں ہمیں خوراک کے لیے بھی فکر کرنا پڑے گی۔”
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور متاثرین کو عارضی ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مون سون کی بارشیں اسی شدت سے جاری رہیں تو مزید دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے اور اس سے نہ صرف زرعی نقصان بلکہ سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کمزور علاقوں میں جانے سے گریز کریں اور حکومتی اعلانات پر عمل کریں تاکہ جان و مال کے نقصان سے بچا جا سکے۔
نمائندہ: انسائیڈ پاکستان