تحریر: زبیر
لاہور

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی سالانہ فلیگ شپ اشاعت 'ورلڈ اکنامک آؤٹ لک' (ڈبلیو ای او) برائے اکتوبر 2026 جاری کر دی ہے، جس میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو (جی ڈی پی گروتھ) 3.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت مسلسل میکرو اکنامک استحکام کی طرف گامزن ہے اور اوسط افراط زر (مہنگائی کی شرح) بتدریج کم ہو کر 9.9 فیصد کی یک ہندسی سطح پر آنے کی توقع ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت مالیاتی پالیسی میں نظم و ضبط اور سخت مانیٹری اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ زرعی پیداوار میں بہتری، مینوفیکچرنگ سیکٹر کے بتدریج احیاء اور برآمدات میں متوازن اضافے نے اقتصادی نمو کو تقویت بخشی ہے، جس کے باعث رواں مالی سال کے دوران مجموعی معاشی کارکردگی میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

افراط زر، مانیٹری پالیسی اور کرنٹ اکاؤنٹ چیلنجز

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سالوں کے دوران 20 سے 30 فیصد سے زائد رہنے والی بلند ترین مہنگائی کے بعد رواں مالی سال اوسط افراط زر کا 9.9 فیصد پر آنا ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ آئی ایم ایف نے نوٹ کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی محتاط زری پالیسی نے قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس سے مستقبل میں پالیسی ریٹ میں کمی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

تاہم بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو عالمی جغرافیائی سیاسی تنازعات اور بین الاقوامی توانائی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اگر خام تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں مسلسل بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر فوری طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

ساختی اصلاحات اور ٹیکس نیٹ میں وسعت کی ضرورت

آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو معاشی پائیداری حاصل کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذریعے ریٹیل، زراعت اور ریئل اسٹیٹ کے شعبوں کو مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہو گا۔ رپورٹ میں توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کو قابو میں رکھنے کے لیے پاور ٹیرف ریفارمز اور نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے یہ تخمینے پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہیں لیکن پائیدار ترقی کا دارومدار طویل المدتی ساختی اصلاحات کے بلا تعطل تسلسل پر ہے۔ پاکستان کی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور مارکیٹ ٹرینڈز کی جامع کوریج کے لیے قومی معاشی خبریں اور اصلاحاتی حکمت عملی کے لیے پالیسی امور سے جڑے رہیں۔