ویب ڈیسک
اسلام آباد

پٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور بجلی کے اضافی ٹیرف کے خلاف حکومتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی طرف باضابطہ لانگ مارچ شروع کر دیا ہے، جس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے ریڈ زون اور حساس داخلی راستوں کو کنٹینرز لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں احتجاجی قافلے مختلف شہروں سے وفاقی دارالحکومت کی جانب گامزن ہیں۔ اسلام آباد انتظامیہ نے شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے پولیس، رینجرز اور ایف سی کی بھاری نفری اہم شاہراہوں، خاص طور پر ڈی چوک، سرینا چوک اور پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف تعینات کر دی ہے۔

مذاکرات کا تعطل اور جماعت اسلامی کے مطالبات

جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اور وفاقی حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان آخری لمحات تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں فوری کمی، بجلی کے بلوں پر عائد اضافی ٹیکسز اور سلیب سسٹم کا خاتمہ، اور آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے معاہدوں پر نظرثانی ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام اب ہوشربا مہنگائی اور ظالمانہ ٹیکسز کا بوجھ برداشت کرنے کے متحمل نہیں رہے، جب تک حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے ٹھوس اور تحریری اقدامات نہیں کرتی، پرامن دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔

حکومتی ردعمل اور یومیہ 120 ارب روپے کے نقصان کا انتباہ

دوسری جانب وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دھرنوں اور راستوں کی بندش پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج اور ہڑتالیں معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں، جس سے قومی معیشت کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

وزیر خزانہ نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ مسائل کا حل سڑکوں کی بندش کے بجائے مذاکرات کی میز پر تلاش کیا جائے تاکہ معاشی استحکام کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشی اصلاحات کا عمل جاری ہے اور حکومت تمام شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔

سیکیورٹی انتظامات اور متبادل ٹریفک پلان

اسلام آباد پولیس نے شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل ٹریفک روٹ پلان جاری کر دیا ہے اور شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایکسپریس وے، کشمیر ہائی وے اور مری روڈ پر پولیس کی خصوصی چوکیاں قائم کی گئی ہیں تاکہ شرپسند عناصر کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

ملک بھر کی تازہ ترین سیاسی و معاشی صورتحال، لانگ مارچ کی اپ ڈیٹس اور سیکیورٹی صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے ان پی کے اردو خبریں سے جڑے رہیں۔