تحریر: زبیر
لاہور

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کا اہم اجلاس سپریم کورٹ بلڈنگ اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچز کی فعال مدت میں ایک سال کی باضابطہ توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔ کمیشن کے کل پندرہ ارکان میں سے چودہ ارکان نے آئینی بینچز کی مدت میں توسیع کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ صرف ایک رکن نے مخالفت کی۔

یہ اجلاس اس لحاظ سے بھی تاریخی تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں پارلیمنٹ کی جانب سے نامزد کردہ سیاسی اراکین، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے پہلی بار جوڈیشل کمیشن کی کارروائی میں باضابطہ طور پر شرکت کی۔ دونوں پارلیمانی نمائندوں نے کمیشن کی کارروائی میں فعال حصہ لیا اور عدالتی نظام میں آئینی بینچز کی کارکردگی کو سراہا۔

احسن بھون کی تعلیمی اسناد کا تنازع نمٹا دیا گیا

اجلاس کے دوران پاکستان بار کونسل کے نمائندے اور سینیئر وکیل احسن بھون کی تعلیمی اسناد کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات پر بھی غور کیا گیا۔ جوڈیشل کمیشن نے پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار اور امتحانات برانچ کی جانب سے موصول ہونے والی باضابطہ تصدیقی رپورٹ کا جائزہ لیا جس میں احسن بھون کی قانون (ایل ایل بی) کی ڈگری کے بالکل درست اور مستند ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔

تمام معزز ارکان نے تصدیقی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد اتفاق رائے سے اس معاملے کو نمٹا دیا اور قرار دیا کہ پاکستان بار کونسل کے نمائندے کی کمیشن میں رکنیت پر کوئی قانونی یا آئینی قدغن باقی نہیں رہی۔

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچز کی کارکردگی پر اطمینان

جوڈیشل کمیشن کے سامنے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور متعلقہ انتظامی جج کی جانب سے آئینی بینچز کے قیام کے بعد سے نمٹائے گئے مقدمات کی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئینی درخواستوں، عوامی مفاد کے معاملات اور انسانی حقوق کے تنازعات کی سماعت کے لیے مخصوص بینچز کے قیام سے عام سائلین کو فوری اور بلا تاخیر انصاف کی فراہمی میں نمایاں مدد ملی ہے۔

کمیشن کے اکثریتی ارکان نے رائے دی کہ بینچز کی مسلسل کارکردگی سے ہائی کورٹ پر مقدمات کے بوجھ میں کمی واقع ہو رہی ہے، اس لیے ان کی مدت میں 12 ماہ کی توسیع انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

آئینی ماہرین کا تجزیہ

قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں پارلیمانی اور عدالتی نمائندوں کی باہمی مشاورت سے ہونے والے یہ فیصلے آئین کے 26 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ اور پارلیمان کے درمیان توازن کو ظاہر کرتے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ، آئینی ترامیم اور اہم عدالتی احکامات کی مسلسل اپ ڈیٹس کے لیے قومی خبریں اور اہم عدالتی فیصلوں کے لیے آئینی و قانونی تجزیات ملاحظہ فرمائیں۔