تحریر: زبیر
لاہور
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر امیر مقام نے باضابطہ بیانات میں واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں نافذ کی گئی ہنگامی صورتحال اور گورنر راج کی کوئی مقررہ یا فکسڈ مدت نہیں ہے۔ وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ جب تک صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات یقینی نہیں بنائے جاتے، آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت نافذ کردہ ایمرجنسی بدستور برقرار رہے گی۔
وفاقی وزراء نے مؤقف اپنایا کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون معطل کر کے امن و امان کے مسائل پیدا کیے تھے، جس کے باعث وفاق کے لیے آئینی اختیار کا استعمال ناگزیر ہو گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوج کی تعیناتی آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے کی گئی ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پی ٹی آئی کا اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع
دوسری جانب معطل شدہ صوبائی حکومت کی اکثریتی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرنا عوام کے جمہوری مینڈیٹ پر شب خون مارنے کے مترادف ہے اور آئین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو سیاسی اختلاف کی بنیاد پر پوری کابینہ کو معطل کرنے کی اجازت دیتی ہو۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ صدر مملکت کے جاری کردہ ایمرجنسی آرڈر کو کالعدم قرار دے کر معطل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی کابینہ کو بحال کیا جائے۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے درخواست کی فوری سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے۔
پشاور اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی انتظامات
صوبائی دارالحکومت پشاور، خیبر، صوابی اور دیگر حساس اضلاع میں سکیورٹی ہائی الرٹ برقرار ہے۔ ریڈ زون، سول سیکرٹریٹ اور اسمبلی چوک کے اطراف پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اضافی دستے تعینات ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید توسیع کر دی ہے جس کے تحت ہر قسم کے جلسے، جلوس، ریلیوں اور چار سے زائد افراد کے جمع ہونے پر مکمل پابندی عائد ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت نافذ کی گئی ایمرجنسی کی توثیق 10 دن کے اندر پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کے مشترکہ اجلاس سے حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس لیے آنے والے دن وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پشاور میں سیاسی و عدالتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ خیبر پختونخوا کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور عدالتی پیش رفت کے لیے قومی خبریں اور آئینی مباحث کے لیے سیاسی امور کا مطالعہ جاری رکھیں۔