تحریر: زبیر
لاہور
ملتان میں شیر شاہ پل کے قریب منگل کی صبح کراچی سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین رحمان بابا ایکسپریس ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جہاں ٹرین کی تمام 15 بوگیاں اچانک پٹڑی سے اتر گئیں۔ ریسکیو 1122 اور پاکستان ریلویز کے حکام کے مطابق اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں کم از کم 4 مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ 30 سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور ریلوے کی ریلیف ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارکنوں نے بوگیوں کی کھڑکیاں اور ہنگامی دروازے کاٹ کر اندر پھنسے ہوئے زخمی مسافروں کو بحفاظت باہر نکالا۔ شدید زخمی افراد کو فوری طبی امداد کے لیے ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ہسپتال انتظامیہ نے فوری ایمرجنسی نافذ کر کے اضافی عملہ تعینات کر دیا ہے۔
حادثے کے ابتدائی اسباب اور ریلوے ٹریک کو پہنچنے والا نقصان
ریلوے حکام کے مطابق رحمان بابا ایکسپریس کینٹ اسٹیشن ملتان سے روانہ ہو کر شیر شاہ جنکشن کی حدود میں داخل ہو رہی تھی کہ اچانک مین لائن پر ٹریک تبدیل کرتے ہوئے یا ٹریک میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کے باعث انجن کے پیچھے لگی تمام 15 بوگیاں پٹڑی سے نیچے اتر گئیں۔ بوگیاں پٹڑی سے اترنے کے باعث ریلوے کا مین ٹریک سینکڑوں میٹر تک اکھڑ گیا، جس کی وجہ سے کراچی، لاہور اور پشاور کے درمیان چلنے والی درجنوں مسافر اور مال بردار ٹرینوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔
پاکستان ریلویز ملتان ڈویژن کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ سمہ سٹہ اور خانیوال سے بھاری کرینوں اور ہیوی مشینری پر مشتمل ریلیف ٹرینیں جائے حادثہ پر پہنچ چکی ہیں تاکہ پٹڑی سے اتری ہوئی بوگیوں کو ہٹا کر ٹریک کی بحالی کا کام شروع کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹریک کی مکمل مرمت اور ٹرین سروس بحال ہونے میں کم از کم 12 سے 18 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا نوٹس اور اعلیٰ سطحی انکوائری
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملتان ٹرین حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے وزارت ریلوے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ زخمی مسافروں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جائیں۔
وفاقی وزیر برائے ریلوے نے حادثے کی تحقیقات کے لیے فیڈرل انسپکٹر آف ریلویز (ایف آئی آر) کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر حادثے کی وجوہات، ٹریک کے نقائص، اور سگنلنگ سسٹم کی صورتحال پر جامع رپورٹ پیش کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حادثے میں غفلت کے مرتکب پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
مسافروں کے لیے ریلوے ہیلپ ڈیسک کا قیام
پاکستان ریلویز نے متاثرہ مسافروں کے اہلخانہ اور عزیز و اقارب کی معلومات کے لیے ملتان، کراچی، لاہور اور پشاور ریلوے اسٹیشنوں پر ہنگامی ہیلپ ڈیسک قائم کر دیے ہیں۔ متاثرہ ٹرین کے محفوظ مسافروں کو ان کی منازل تک پہنچانے کے لیے خصوصی بسوں اور متبادل ٹرینوں کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ ملکی ریلوے اور ہنگامی صورتحال کی مزید تازہ ترین معلومات کے لیے قومی خبریں اور اہم ملکی امور کے لیے سیاسی و قومی پیش رفت فالو کریں۔