تحریر: زبیر
لاہور
پاکستان کے پارلیمنٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں نافذ کردہ ہنگامی صورتحال (ایمرجنسی) اور سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کی تعیناتی کے صدارتی حکم نامے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علیحدہ اجلاسوں میں وفاقی وزراء کی جانب سے پیش کی جانے والی قراردادوں کو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا، جس کے بعد صوبے میں وفاق کا انتظامی کنٹرول قانونی طور پر مزید مستحکم ہو گیا ہے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں قرارداد کی منظوری کے دوران اپوزیشن بینچوں پر موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے شدید احتجاج کیا، اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا اور نعرے بازی کر کے کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ تاہم حکومتی اتحادی جماعتوں کی واضح عددی برتری کے باعث قراردادیں باآسانی منظور کر لی گئیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی سے پالیسی خطاب
قرارداد کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ حکومت کا کوئی سیاسی شوق نہیں بلکہ ملکی بقا اور ریاستی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ناگزیر آئینی قدم تھا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، سکیورٹی اداروں کے ساتھ صوبائی حکومت کا عدم تعاون اور انتہا پسندی سے نمٹنے میں مسلسل غفلت ایسے عوامل تھے جن کے باعث وفاق آئینی تماشائی نہیں بن سکتا تھا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232، 234 اور 245 کے تحت اٹھائے گئے تمام اقدامات پارلیمنٹ کی توثیق کے بعد مکمل طور پر آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یقین دلایا کہ صوبے کے عوام کے جان، مال اور عزت کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور دہشت گردی کے خاتمے تک ریاست پیچھے نہیں ہٹے گی۔
اپوزیشن کا ردعمل اور عدالتی چارہ جوئی
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں قرارداد کی منظوری کو جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل قرار دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کے بھاری مینڈیٹ سے منتخب ہونے والی صوبائی حکومت کو معطل کر کے وفاقی آمریت مسلط کی گئی ہے جس کی کوئی اخلاقی یا جمہوری بنیاد نہیں۔
پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی اس قرارداد اور صدارتی فرمان کے خلاف پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواستوں کی بھرپور پیروی کریں گے۔ تحریک انصاف کے وکلاء کے مطابق آرٹیکل 245 کے نفاذ کی حدود اور منتخب اسمبلیوں کی معطلی سے متعلق سپریم کورٹ کے متعدد عدالتی نظائر موجود ہیں جن کی روشنی میں اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔
پشاور اور حساس اضلاع میں زمینی صورتحال
پارلیمانی توثیق کے بعد خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ پشاور، خیبر اور کوہاٹ کے حساس مقامات پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گشت میں اضافہ کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے پرامن رہنے اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔ ملک بھر کی سیاسی اور سلامتی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت کے لیے قومی خبریں اور اہم پارلیمانی امور کے لیے سیاسی و آئینی امور فالو کریں۔