تحریر: زبیر
لاہور / اسلام آباد
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے زیرِ اہتمام وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ کا بڑا قافلہ پیر کو لکی مروت، کرک اور کوہاٹ کے مراحل مکمل کرنے کے بعد خیبرپختونخوا اور پنجاب کی سرحد خیرآباد (اٹک) کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں ممکنہ دھرنے اور سیاسی تصادم کے پیشِ نظر وفاقی وزارت داخلہ نے جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے جبکہ فیض آباد، ترنول اور ریڈ زون کے تمام داخلی راستوں پر کنٹینرز کھڑے کر کے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
کوہاٹ سے اٹک بارڈر کی طرف قافلے کی پیش قدمی
ان سائیڈ پاکستان (INPK) سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے تنظیمی عہدیداروں نے تصدیق کی کہ اتوار کی شب کرک میں قیام کے بعد پیر کی صبح قافلہ کوہاٹ پہنچا جہاں ضلعی کارکنوں کی بڑی تعداد جلوس میں شامل ہوئی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق قافلہ حسن ابدال اور خیرآباد پل کے راستے پنجاب کی حدود میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کی قیادت صوبائی وزراء اور سینئر پارلیمانی قائدین کر رہے ہیں۔
قافلے کے شرکاء بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فوری رہائی، انتخابی نتائج کے آڈٹ اور سیاسی کارکنوں کے خلاف درج مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور پارٹی پرچم اٹھا رکھے ہیں، جبکہ راستے میں سیکیورٹی فورسز کے ممکنہ رکاوٹی انتظامات کو عبور کرنے کے لیے بھاری مشینری اور کرینیں بھی جلوس کے ہمراہ دیکھی گئی ہیں۔
جڑواں شہروں میں راستوں کی بندش اور دفعہ 144 کا نفاذ
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ راولپنڈی اور اسلام آباد نے امن و امان کے قیام کے لیے دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے جس کے تحت ہر قسم کے عوامی اجتماعات، ریلیوں اور مظاہروں پر سخت پابندی عائد ہے۔ اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے INPK کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی جاری ہے اور کسی بھی غیر قانونی جتھے کو اسلام آباد کے حساس ریڈ زون میں داخلے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
موٹروے ایم ون (پشاور تا اسلام آباد) اور جی ٹی روڈ کے اہم جنکشنز پر پولیس چوکیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد میٹرو بس سروس کو بھی سیکیورٹی خدشات اور روٹ کی بندش کے سبب جزوی طور پر معطل رکھا گیا ہے، جس سے روزمرہ مسافروں اور طلبہ کو شدید سفری مشکلات کا سامنا ہے۔
مذاکرات کے ادوار اور آئندہ کا لائحہ عمل
حکومتی نمائندوں اور حزبِ اختلاف کے قائدین کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کے باوجود اب تک فریقین کسی مصالحتی حل پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔ حکومتی ترجمان کا مؤقف ہے کہ ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت کا اصرار ہے کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے۔
قارئین لانگ مارچ کی تازہ ترین پیش رفت، روٹس کی صورتحال اور مصدقہ تجزیوں کے لیے INPK اردو صفحہ اول سے باخبر رہ سکتے ہیں۔